’یہاں تو گاڑیاں مشکل سے چڑھتی ہیں، آپ لوگوں سے سائیکل چلوا رہے ہیں۔'

ایسے تبصرے اتوار کو ختم ہونے والی ٹور ڈی خنجراب سائیکل ریس کے دوران عام سننے کو ملتے ہیں۔

پاکستان کو چین سے ملانے والے درۂ خنجراب میں منعقد ہونے والی یہ ریس دنیا کی ایک منفرد سائیکل ریس ہے اور اس کے منتظمین کا اس بارے میں دعویٰ ہے کہ یہ دنیا میں بلند ترین مقام پر منعقد کی جانے والی سائیکل ریس ہے۔

ان کے مطابق ’جس اونچائی پر ٹور ڈی فرانس شروع ہوتی ہے، ٹور ڈی خنجراب کی ابتدا اس سے زیادہ اونچائی سے ہوتی ہے۔'

اس ریس میں پاکستان کے علاوہ افغانستان اور سری لنکا سے آنے والے سائیکلسٹس بھی شریک ہوئے۔

گذشتہ ہفتے منعقد ہونے والی اس سائیکل ریس کے چار مرحلے تھے، گلگت شہر سے راکا پوشی ویو پوائنٹ، وہاں سے دوئیکر، دوئیکر سے سوست اور آخری مرحلہ پاکستان اور چین کی سرحد پر واقع درۂ خنجراب پر تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ٹور ڈی خنجراب بلوچستان کے سائیکلسٹ کے نام

ٹور ڈی خنجراب: پہلی سائیکل ریلی کا تاریخی دن

سائیکل پر 500 سو کلومیٹر سفر لیکن غلط سمت میں

اس سائیکل ریس کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے آخری مرحلے میں راستے کی تیزی سے بڑھتی اونچائی کے علاوہ آکسیجن کی کمی کے باعث سائیکل سواروں کو مشکلات پیش آتی ہیں۔

راکا پوشی ویو پوائنٹ سے دوئیکر کا مرحلہ بھی انتہائی مشکل تھا جہاں سائیکلسٹس کو انتہائی مشکل چڑھائی چڑھنی پڑی۔

یہ مرحلہ اتنا ڈھلوانی تھا کہ یہیں سفر کے دوران ایک سائیکلسٹ کے لبوں پر یہ بات آئی کہ ’یہاں تو گاڑیاں بھی مشکل سے چڑھتی ہیں، آپ لوگوں سے سائیکل چلوا رہے ہیں۔'

یہ مرحلہ اس قدر سخت تھا کہ ایک سائیکل سوار کی سائیکل کی چین زور لگانے سے اتری نہیں بلکہ ٹوٹ گئی۔

تاہم اس حوالے سے انتظامیہ کی رائے یہ رہی کہ اس مرحلے سے اناڑی اور باصلاحیت سائیکل سواروں کا فرق صاف ظاہر ہو جاتا ہے۔

کراچی سے ہزاروں کلومیٹر کا سفر کر کے اس ریس میں شرکت کے لیے آنے والے ایک سائیکل سوار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا۔ ’یہ اتنا مشکل نہیں ہے، ہم نے اسے مشکل بنا لیا ہے۔‘

ان کے مطابق ’کراچی میں ہمیں ٹریننگ کے لیے پہاڑ نہیں ملتے مگر کراچی میں تیز ہوائیں چلتی ہیں، ہم جب اس میں ٹریننگ کرتے ہیں تو ہمارا زور زیادہ لگتا ہے اس لیے ہمارے لیے اتنی مشکل نہیں ہوتی۔'

تمام تصاویر کے جملہ حقوق محفوظ ہیں۔