انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں سابق وزیراعلیٰ عمر عبد اللہ کو تقریباً آٹھ ماہ کے بعد منگل کے روز رہا کر دیا گیا ہے۔ عمر عبد اللہ کو گذشتہ برس پانچ اگست کو انڈیا کی جانب نے کشمیر کی ریاست کے خودمختار درجے کی منسوخی کے موقعے دیگر درجنوں سیاسی رہنماوں سمیت نظر بند کیا گیا تھا۔

اس موقعے پر ریاست میں سیاسی رہنماوں کے علاوہ علیحدگی پسندوں، نوجوانوں، تاجروں اور وکلا کی بڑی تعداد کو بھی جیلوں یا گھروں میں نظر بند کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ عمر عبد اللہ کو پبلک سیفی ایکٹ کے تحت نظر بند کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

فاروق عبداللہ کی رہائی: ’سب کی رہائی کے بعد کچھ کہوں گا‘

’انڈیا اور پاکستان نے ہماری تکلیفوں سے فائدہ اٹھایا‘

’مسئلہ کشمیر کانٹے کی طرح ہے، مصالحت کے لیے تیار ہوں‘

عمر عبد اللہ کے والد اور تین مرتبہ کشمیر کے وزیراعلیٰ فاروق عبداللہ کو بھی گذشتہ ہفتے اِن اطلاعات کے بیچ رہا کیا گیا تھا کہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی را کے سابق چیف امرجیت سنگھ دُلت کے ساتھ اُن کی گھریلو حراست کے دوران ملاقات ہوئی تھی۔

تاہم فاروق عبد اللہ نے رہا ہوتے ہی سبھی سیاسی حلقوں سے اپیل کی کہ وہ متحد ہوکر کشمیر سے باہر مختلف جیلوں میں قید کشیمریوں کی وطن واپسی کے لیے نئی دلی پر دباو ڈالیں۔

واضح رہے عمرعبداللہ کی بہن نے انڈین سپریم کورٹ میں اُن پر لگے پبلک سیفٹی ایکٹ کو چیلنج کیا تھا جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے مقامی انتظامیہ سے جواب طلب کیا تھا۔

عمر عبد اللہ کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ آٹھ ماہ کی قید کے دوران مسلسل ورزش کرتے رہے اور مناسب غذا لیتے رہے ہیں، اس لیے وہ صحت مند ہیں تاہم انہوں نے داڑھی بڑھا رکھی ہے۔

عمر کی تنظیم نیشنل کانفرنس کے ایک نوجوان لیڈر نے بتایا ’ظاہر ہے پوری دنیا ایک جیل ہے، عمر صاحب بھی جیل نکل کر گھریلو قرنطینہ میں ہی رہیں گے۔‘

واضح رہے گزشتہ برس اگست میں جب نریندر مودی کی حکومت نے پارلیمنٹ میں جموں کشمیر کی تشکیل نو کا اعلان کرکے کشمیر اور لداخ کو دو الگ الگ مرکز کے انتظام والے علاقوں میں تقسیم کردیا تو عوامی ردعمل کو روکنے کے لیے سبھی سیاسی رہنماؤں سمیت ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا گیا۔ انٹرنیٹ اور فون رابطوں پر پابندی عائد کی گئی جو چھ ماہ بعد نرم کی گئی۔ ابھی بھی کشمیر میں سیاسی سرگرمیاں شروع نہیں ہوئی ہیں۔

عمر عبد اللہ نے بیس سال قبل اپنے والد کی جماعت نیشنل کانفرنس میں شمولیت کر کے انڈیا کے قومی انتخابات میں حصہ لیا اور سرینگر سے الیکشن جیتا۔

وہ اٹل بہاری واجپائی کی قیادت والی بی جے پی کی حکومت میں نائب وزیر خارجہ بھی رہے۔ اس کے بعد انھوں نے 2008 میں نیشنل کانفرنس کی انتخابی مہم چلائی اور کانگریس کی حمایت سے بننے والی نیشنل کانفرنس کے وزیراعلیٰ بنے۔

گرفتاری سے قبل بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران عمرعبداللہ نے کہا تھا کہ اگر کشمیر کی نیم خودمختاری کو ختم کیا گیا تو ستر سال قبل انڈیا اور کشمیری مہاراجہ کے درمیان ہوئے الحاق پر سوالات پیدا ہوجائیں گے۔

مبصرین کہتے ہیں کہ گذشتہ سال اگست میں جو کچھ ہوا اسے ابھی تک نیشنل کانفرنس ایک یکطرفہ اور عوام کش فیصلہ کہتی رہی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ فاروق عبداللہ اور عمرعبداللہ آنے والے دنوں میں اپنی پارٹی کی لہجہ سازی کیسے کریں گے۔