تصویر کے کاپی رائٹ AFP

محمد علی جناح چاہے اکیلے ہوں یا موہن داس کرم چند گاندھی کے ساتھ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی کسی بھی دیوار پر اپنے لیے جگہ بنانا اب ان کے لیے مشکل ثابت ہو رہا ہے۔

جناح 80 سال پہلے 1938 میں علی گڑھ گئے تھے جب یونیورسٹی کے طلبہ نے انھیں اپنی یونین کی تاحیات رکنیت سے نوازا تھا۔ اور روایت کے مطابق یونین ہال کی دیوار پر ان کی ایک تصویر آویزاں کر دی گئی۔

پھر مئی میں بی جے پی کے کچھ رہنماؤں کو معلوم ہوا کہ تقسیم کے بعد بھی جناح وہیں موجود ہیں جہاں پہلے تھے، اور پھر وہی ہوا جو آج کل کے حالات میں ہوتا ہے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

جناح نے اپنی جائیداد کسے وقف کی تھی؟

گنا جیت گیا اور جناح ہار گئے

انڈیا میں جناح بمقابلہ گنا!

لیکن لگتا ہے کہ یونیورسٹی میں بھی ’آؤٹ آف دی باکس تھنکنگ‘ کرنے والوں کی کمی نہیں ہے۔ انھوں نے دو اکتوبر کو گاندھی جینتی (سالگرہ) کے موقع پر یونیورسٹی کی مشہور مولانا آزاد لائبریری میں کچھ اور تصویریں نمائش کے لیے لگا دیں۔

یاد گاندھی کو کرنا تھا لیکن بس اتفاق سے ان تصویروں میں جناح بھی ان کے ساتھ ہی موجود تھے۔ کسی نے ہو سکتا ہے کہ یہ چیک کرنے کی کوشش کی ہو کہ اکیلے تو جناح زیادہ دیر ٹک نہیں پائے، دیکھتے ہیں کہ ’بابائے قوم‘ کے ساتھ کچھ فرق پڑتا ہے یا نہیں۔

یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ مقصد تاریخی دستاویزات، کتابوں اور تصویروں کے ذریعے ان کی زندگی کی ایک جھلک اور ان کے عدم تشدد کے پیغام کو لوگوں تک پہنچانا تھا۔

پیغام کتنے لوگوں تک پہنچا کہنا مشکل ہے، لیکن ان لوگوں کے ساتھ یونیورسٹی کا تجربہ اچھا نہیں رہا ہے جو عدم تشدد کے اصول کو زیادہ پسند نہیں کرتے۔ مئی میں کافی ہنگامہ ہوا تھا اس لیے یا تو یونیورسٹی کو خود احساس ہوا کہ بات پھر بگڑ سکتی ہے یا پھر احساس دلایا گیا، جو بھی ہو پھر ہوا وہی جو آجکل کے دور میں ہوتا ہے۔

اب بانی پاکستان جناح اور ’فادر آف دی نیشن‘ گاندھی کی یہ نایاب تصویرں لائبریری کے کسی تاریک کونے میں واپس رکھ دی گئی ہیں۔

یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ تصویریں ’اتاری‘ نہیں گئی ہیں، بس نمائش مکمل ہوگئی تھی اس لیے ہٹا دی گئی ہیں۔

جناح شاید واحد ایسے رہنما ہیں جو وفات کے 80 سال بعد بھی انڈیا کی سیاست میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ انتخابی مہم میں تو ان کا ذکر ہوتا ہی رہتا ہے۔

کچھ رہنما ان کا نام لے کر اپنی سیاست چمکا رہے ہیں اور کچھ کی سیاست ان کا نام لینے کی وجہ سے وقت سے پہلے ہی ختم ہوگئی۔ ان میں بی جے پی کے سابق صدر لال کرشن اڈوانی اور سابق وزیر دفاع جسونت سنگھ بھی شامل ہیں۔

اڈوانی پاکستان گئے، وہاں جناح کو ایک عظیم اور سیکولر رہنما بتایا، اور اس کے بعد انڈیا کا وزیر اعظم بننے کا ان کا خواب ادھورا ہی رہ گیا۔ جسونت سنگھ نے جناح کے بارے میں کتاب لکھی، کہا کہ تاریخ میں انھیں غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے، اور اس کے بعد انھیں پارٹی سے نکال دیا گیا۔

جسونت سنگھ کی کتاب میں ایک چیپٹر گاندھی اور جناح کے بارے میں بھی تھا جس میں وہ لکھتے ہیں کہ دونوں کی سیاست بالکل مختلف تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hulton Archive

’اگرچے گاندھی اور جناح کے خاندان کبھی گجرات کے کاٹھیاواڑ میں صرف چالیس میل کے فاصلے پر رہتے تھے لیکن اس قربت کی جھلک کبھی ان کی سیاست میں نظر نہیں آئی۔ دونوں کی پہلی ملاقات جنوری 1915 میں ہوئی تھی، گاندھی جنوبی افریقہ سے لوٹے تھے اور گوجر برادری کی ایک تقریب میں ان کا استقبال کیا جا رہا تھا۔ اپنے خطاب میں گاندھی نے کہا کہ انھیں اس بات سے خوشی ہوئی کہ تقریب کی صدارت انھیں کے علاقے کا ایک مسلمان کر رہا ہے۔‘

جسونت سنگھ کہتے ہیں کہ گاندھی نے غیر ضروری طور پر جناح کا ایک مسلمان کے طور پر ذکر کیا حالانکہ وہ کسی بھی طرح مسلمانوں کے سٹیریوٹائپ میں فٹ نہیں ہوتے تھے۔ لیکن اپنی تقریر میں جناح نے جم کر گاندھی کی تعریف کی۔

اپنے صدراتی خطاب میں جناح نے کہا کہ ’سب سے بڑا مسئلہ دونوں فرقوں (ہندوؤں اور مسلمانوں) میں اتفاق اور تعاون کا جذبہ پیدا کرنا ہے تاکہ (برطانیہ سے) انڈیا (کی آزادی) کا مطالبہ بالکل متفقہ طور پر کیا جاسکے۔‘ پھر اتحاد کی کوششوں کا کیا ہوا یہ کہانی تو لمبی ہے لیکن اس کتاب پر گجرات کی حکومت نے پابندی عائد کر دی تھی۔ اس وقت نریندر مودی ریاست کے وزیر اعلیٰ تھے۔

جسونت سنگھ نے تب کہا تھا کہ جب ’ہم کتابوں پر پابندی لگانے لگیں تو سمجھیے کہ ہم سوچنے پر پابندی لگا رہے ہیں۔‘

کتاب پر سے تو پابندی ہٹ گئی تھی، سوچ کے بارے میں معلوم نہیں۔ اس لیے یونیورسٹی سے یہ سوال بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ اس نے جناح کی تصویر کےساتھ گاندھی کی تصویر کیوں اتاری!